ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مالیگاؤں2008بم دھماکہ معاملہ:سرکاری گواہوں کی عدالت میں عدم موجودگی سے خصوصی جج برہم

مالیگاؤں2008بم دھماکہ معاملہ:سرکاری گواہوں کی عدالت میں عدم موجودگی سے خصوصی جج برہم

Wed, 03 Apr 2019 21:06:12    S.O. News Service

استغاثہ کو حکم دیا کہ تمام زخمی گواہوں کو جلد از جلد عدالت میں گواہی کے لیئے پیش کرے
ممبئی،3؍اپریل(ایس او نیوز؍ پریس ریلیز)مالیگاؤں 2008 ء بم دھماکہ معاملے کی جاری سماعت کے دوران آج خصوصی این آئی اے جج نے استغاثہ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے حکم دیا کہ وہ اس معاملے میں زخمی ہونے والے سرکار ی گواہوں کو اگلے چند ایام میں عدالت میں پیش کرے۔عیاں رہے کہ خصوصی جج کے متعدد احکامات کے باوجود سرکاری گواہان عدالت میں پیش نہیں ہورہے ہیں جس کے بعد آج عدالت نے استغاثہ کو حکم دیا کہ وہ گواہوں کی عدالت میں موجود گی کو یقینی بنائے نیز اس معاملے میں متاثرین کی نمائندگی کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے وکلاء کو حکم دیا کہ استغاثہ کی معاونت کریں تاکہ گواہان عدالت میں جلد از جلد حاضر ہوسکیں۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق خصوصی این آئی اے عدالت کے جج ونود پڈالکر نے وکیل استغاثہ اویناس رسال کو حکم دیا کہ وہ اگلی دو تین سماعتوں میں تمام زخمی سرکاری گواہوں کو عدالت میں پیش کرے ۔ خصوصی جج نے عدالت میں موجود متاثرین کی نمائندگی کرنے والے وکیل شاہد ندیم کو بھی حکم دیا کہ وہ گواہان کی عدالت میں موجودگی کو یقینی بنانے میں استغاثہ کی مدد کریں ۔

خصوصی این آئی اے عدالت کو وکیل استغاثہ اویناس رسال اور ایڈوکیٹ شاہد ندیم نے بتایا کہ ان کی کوشش ہیکہ زیادہ سے زیادہ گواہان عدالت میں پیش ہوں لیکن اس معاملے میں گواہ مقرر کیئے گئے بیشتر افرارد مزدور پیشہ افراد ہیں اور انہیں مالیگاؤں سے ممبئی گواہی دینے آنے میں دقت کا سامنا ہے لیکن ان کی کوشش ہوگی کہ وہ انہیں راضی کر نے کے ساتھ ساتھ ان کے ممبئی آنے کا بندوبست کر یں گے۔

اس معاملے میں ابتک 76؍ سرکاری گواہوں کی گواہیاں مکمل ہوچکی ہیں جس میں زخمیوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹر اور بم دھماکوں میں زخمی ہونے والے افراد شامل ہیں۔ بم دھماکہ میں کل 105؍ افراد زخمی ہوئے تھے جس میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں جن کی گواہی ابھی باقی ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ دنوں خصوصی عدالت نے ملزمین سادھوی پرگیا سنگھ ٹھاکر، سدھاکر دویدی، میجر رمیش اپادھیائے، سمیر کلکرنی، سدھاکر چتروید اور اجئے راہیکر کے خلاف مقدمہ قائم کیئے جانے کے احکامات جاری کیئے تھے اور ملزمین کے خلاف چارج فریم کرکے گواہوں کو طلب کیا تھا ۔


Share: